فهرس الكتاب

الصفحة 3599 من 4341

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

باب: مردو ں کےلیے سرخ لباس پہننا جائز ہے

3599 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَجْمَلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَرَجِّلًا فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ

حضرت براء ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں نے کسی کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ صاحب جمال نہیں دیکھا جب کہ آپ نے (بالوں میں ) کنگھی کی ہوئی تھی اور سرخ چادریں ( تہبند اور چادر ) پہن رکھی تھیں ۔

۱۔امام ابن قیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:حلھ کا مطلب تہبند اور اوڑھنے والی چادر ہے اور حلھ کا لفظ ان دونوں کے مجموعے پر بولا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا غلط فہمی ہے کہ یہ جوڑا خالص سرخ رنگ کا تھا اورا س میں دوسرا رنگ شامل نہیں تھا۔ سرخ حلے سے مراد یمن کی دو چادریں ہوتی ہیں جو سرخ اور سیاہ دھاریوں کی صورت میں بنی ہوتی ہیں جس طرح یمن کی دوسری چادریں (لکیر دار) ہوتی ہیں۔ یہ لباس اس نام (سرخ حلہ) سے ان سرخ دھاریوں کی وجہ سے مشہور ہے ورنہ خالص سرخ (لباس) سے تو سختی سے منع کیا گیا ہے البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (صحیح البخاری کتاب الصلاةباب الصلاۃ فی الثوب الأحمر حدیث: 376) میں ذکر کردہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: امام بخاری رحمہ اللہ اس عنوان کے ذریعے سے (سرخ کپڑا پہننے کے ) جواز کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔ گویا خالص سرخ رنگ کا جوڑا پہننا بھی مردوں کے لئے جائز ہے لیکن اگر کسی علاقے میں یہ رنگ عورتوں کے لئے مخصوص ہو چکا ہو تو پھر اس علاقے میں مردوں کے لئے اس سے اجتناب بہتر ہوگا کیونکہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا بھی ممنوع ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت