1895 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ»
حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کیا کرو اور اس موقع پر دَف بجایا کرو۔
1۔نکاح کا اعلان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایجاب و قبول مسلمانوں کی مجلس میں کیا جائے اور ولیمے کی دعوت کی جائے تاکہ عام لوگوں کو اس کا علم ہو جائے کہ فلاں شخص کا نکاح فلاں خاتون سے ہوا ہے ۔ اس طرح ناجائز تعلقات کا راستہ بند ہو جائے گا۔
اس روایت کا پہلا حصہ شیخ البانی کے نزدیک حسن ہے ۔ دیکھیئے ( ارواء الغلیل: 7؍50، رقم 1993) تاہم دف بجانے کا ذکر بھی دیگر روایات سے ثابت ہے ، بشرطیکہ شرعی حدود کے اندر ہو جیسا کہ آگے وضاحت آرہی ہے ۔