فهرس الكتاب

الصفحة 1757 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: جس شخص کے ذمے کوتاہی کی وجہ سے رمضان کے روزے باقی ہوں اور وہ قضا اداکیے بغیر فوت ہو جائے

1757 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْثَرُ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمے ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن ( کے روزے ) کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلادیا جائے۔ ''

1۔اما م تر ندی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے با رے میں فر ما یا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی تو رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے طو ر پر صحیح سند سے مرو ی نہیں (جامع الترمذی الصوم باب ماجاء الکفارۃ حدیث 718) -2 امام ابن ما جہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر جو عنوا ن لکھا ہے اس سے اشرہ ملتا ہے کہ ان کی رائے میں اگر روزوں کی قضا نہ دینے میں مر نے والے کی کو تا ہی کو دخل نہ بلکہ اسے قضا ادا کر نے کا مو قع ہی نہ ملا ہو تو اس کی طرف سے کھا نا کھلانے کی ضرورت نہیں اس مسئلے کی با بت مزید دیکھیے حدیث 1759 کے فوائد و مسا ئل ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت