فهرس الكتاب

الصفحة 3235 من 4341

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

باب: بھیڑیے اور لومڑی کا بیان

3235 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ، مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ قَالَ: «وَمَنْ يَأْكُلُ الثَّعْلَبَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟ قَالَ: «وَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟»

حضرت خزیمہ بن جزء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے زمین کے (جنگلی) جانوروں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ لومڑی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ نبیﷺ نے فرمایا: '' لومڑی کون کھاتا ہے؟'' میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھیڑیے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: '' کیا بھیڑیے کو کوئی ایسا شخص کھا سکتا ہے جس میں بھلائی موجود ہو؟''

مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہے تاہم دیگر دلائل کی رو سے لومڑی اور بھیڑیا گوشت خور جانور ہونے کی وجہ سے حرام ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت