فهرس الكتاب

الصفحة 1495 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : نماز جنازہ میں قراءت کا بیان

1495 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نماز جنازہ میں سورہٴ فاتحہ پڑھی۔

مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہے۔لیکن معنًا ومتنًا صحیح ہے۔کیونکہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کے پڑھنے کی بابت صحیح بخاری میں حضرت طلحہ بن عبد اللہ بن عوف سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےساتھ ایک جنازہ پڑھا توانھوں نے سورۃ فاتحہ کی قراءت کی اور کہا یہ سنت ہے (صحیح البخاری الجنائز باب قراۃ فاتحہ الکتاب علی الجنازۃ حدیث 1335۔) اور صحابی کا یہ کہنا کہ یہ سنت ہے مرفوع حدیث کے معنی میں ہوتا ہے۔اس کا صحابی کے قیاس اور اجتہاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔لہذا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول یہ سنت ہے سے معلوم ہواکہ رسول اللہﷺ بھی نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔جیسا کہ سنن نسائی کی روایت میں بھی موجود ہے۔دیکھئے۔ (سنن نسائی الجنائز باب الدعاءحدیث 1991) بنابریں مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے کے باوجود دیگر احادیث کی روشنی میں قابل عمل اور قابل حجت ہے نیز آئندہ آنے والی حدیث سے بھی اسی مسئلے کااثبات ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت