فهرس الكتاب

الصفحة 3576 من 4341

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

باب: قمیص کتنی لمبی ہونی چاہیے ؟

3576 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَغْرَبَهُ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: (جائز حد سے زیادہ ) لٹکانا تہبند میں بھی ہوتا ہے قمیص میں بھی اور پگڑی میں جو شخص تکبر کے طور پر کسی بھی چیز کو لٹکائے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف (نظر رحمت سے ) نہیں دیکھا گا۔

(امام ابن ماجہ ؓ کے استاد ) ابوبکر بن ابی شیبہ ؓ نے فرمایا: یہ کیسی نادر حدیث ہے !

۱ ۔اسبال (کپڑا لٹکانا ) کا لفظ عام طور پر تہبند اور شلوار وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے تک لٹکانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے کپڑے بھی جائز حد سے زیادہ لمبے رکھنا جائز نہیں۔

۲۔علامہ محمد فواد عبدالباقی بیان کرتے ہیں کہ علماء نے پگڑی کے لٹکنے والے حصے کی حد کمر کے نصف تک بیان فرمائی ہے۔

۳۔اس حدیث کے نادر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں شيئًا کا لفظ عام ہے یعنی اسبال ہر کپڑے میں ہو سکتا ہے جب اس حد سے زیادہ ہو جو شرفاء کے ہاں متعارف ہے۔ اسبال کی ممانعت والی دوسری حدیثوں میں یہ نکتہ نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت