1103 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا جَلْسَةً زَادَ بِشْرٌ وَهُوَ قَائِمٌ
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دو خطبے دیتے تھے اور ان کے درمیان تھوڑا سا بیٹھتے تھے۔ بشر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دیتے تھے۔
1۔جمعے کے دو خطبے ہوتے ہیں۔2۔خطبہ کھڑے ہوکردینا چاہیے۔الا یہ کہ کوئی معقول عذر ہو۔3۔دوخطبوں کے درمیان فاصلہ کرنے کے لئے تھوڑا سا بیٹھنا چاہیے۔4۔دونوں خطبوں میں وعظ اور نصیحت کرنی چاہیے۔حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔نبی کریمﷺ دو خطبے ارشاد فرماتے تھے۔ان کے درمیان بیٹھتے تھے۔ (خطبوںمیں قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور لوگوں کونصیحت کرتے تھے۔(صحیح المسلم الجمعۃ۔باب الزکر الخطبتیہن قبل الصلاۃ وما فیھا من الجلسۃ۔حدیث 862)