3636 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعَرٌ طَوِيلٌ فَقَالَ ذُبَابٌ ذُبَابٌ فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُهُ فَرَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ
حضرت وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:نبی ﷺ نے مجھے دیکھا جبکہ میرے بال لمبے تھے۔ آپ نے فرمایا: نامبارک،نامبارک ۔چنانچہ میں گیا اور بال چھوٹے کرلئے ۔نبی ﷺ نے مجھے (بال چھوٹے کروائےہوئے) دیکھاتو فرمایا: میرا مقصد تم سے (کچھ کہنا) نہیں تھا،ویسے یہ زیادہ اچھے ہیں ۔
۱۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی اور چیز کے بارے میں فرمایا تھا لیکن صحابی نے سمجھا کہ میرے بالوں کے بارے میں فرمایا ہے۔
۲۔ صحابہ کرام حکم کی تعمیل میں اس قدر مستعد تھے کہ صرف اشارے پر عمل کر لیا ۔ یہ بھی پوچھنا ضروری نہ سمجھا کہ آپ کسے فرمارہے ہیں اور آپ کا کیا مطلب ہے۔
۳۔رسول اللہ ﷺ نے چھوٹے بالوں کو زیادہ اچھے فرمایا اور پسند کیا ۔ اس سے امام ابن ماجہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد کے لیے زیادہ لمبے بال رکھنا نا پسندیدہ ہے۔