فهرس الكتاب

الصفحة 1565 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : قبر پر ہاتھوں سے مٹی ڈالنے کا بیان

1565 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، ثُمَّ أَتَى قَبْرَ الْمَيِّتِ، فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلَاثًا»

ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک میت کا جنازہ پڑھا پھر اس کی قبر پر آئے اور اس کے سر کی طرف سے اس پر ( مٹی کی) تین لپیں ڈالیں۔

1۔جنازہ پڑھنے والا اگر دفن تک رکے تو اسے چاہیے کہ قبر پرکم از کم تین لپیں مٹی ڈالے۔2۔لپ سے مراد دونوں ہاتھ ملا کر مٹی ڈالنا ہے۔جسے پنجابی میں بک کہتے ہیں۔ایک ہاتھ بھر کر کوئی چیز لینے کو اردو میں چلو کہتے ہیں حدیث میں یہ مراد نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت