فهرس الكتاب

الصفحة 3557 من 4341

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

باب: جب کوئی نیا لباس پہنے تو کیا کہے ?

3557 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا قَالَهَا ثَلَاثًا

حضرت ابو امامہ سےروایت ہے انھوں نے فرمایا: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے نیا کپڑا پہنا تو فرمایا: [الحمد للہ الذی کسانی اواری بہ عوربی وأتحمل بہ فی حیاتی ] اللہ کا شکرجس نے مجھے وہ کپڑا پہنایاجس سے میں اپناستر چھپاتا ہوں اور زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں: پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سےیہ ارشاد سنا ہے: جس نے نیا کپڑا پہنا اور کہا: [الحمد للہ الذی کسانی اواری بہ عوربی وأتحمل بہ فی حیاتی ] پھر جو پرانا کپڑا اتارا ہے اسے صدقہ کر دیا وہ زندگی میں اور وفات کے بعد اللہ کے سایہ عاطفت میں اللہ کی حفاظت میں اور اللہ کی پردہ پوشی میں رہے گا۔ نبی ﷺ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت