981 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخُو فُلَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ كَانَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِهِ، يُصَلُّونَ بِهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْإِمَامُ ضَامِنٌ، فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاءَ، يَعْنِي، فَعَلَيْهِ، وَلَا عَلَيْهِمْ»
سیدنا ابو حازم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ اپنے قبیلے کے نو جوانوں کو آگے بڑھاتے تھے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ان سے عرض کیا گیا، آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کو قویم الاسلام صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ''امام ذمے دار ہے۔ اگر اچھے طریقے سے نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ہوگا اور مقتدیوں کو بھی ثواب ہوگا، اور اگر اس نے غلطی کی تو وہ گناہ گار ہو گا، مقتدی گناہ گار نہیں ہوں گے۔''
1۔امامت ایک بھاری زمہ داری ہے۔امام کو اس کا احساس کرنا چاہیے۔2۔تربیت کے لئے نوجوانوں کوامام بنایا جاسکتا ہے۔ 3۔افضل فرد کی موجودگی میں غیر افضل کی اقتداء می نماز درست ہے۔4۔اگر ایک شخص زمے داری کا اہل ہونے کے باجود تو اضعًا وہ زمے داری نہ اٹھائے۔جب کہ اس کام کے اہل دوسرے افراد موجود ہوں تو جائز ہے۔5۔امام کی غلطی کی زمہ داری مقتدیوں پر نہیں۔تاہم اگر وہ اہلیت رکھنے والے کو چھوڑ کر ایسے شخص کو امام بنایئں گے۔ جو اس منصب کا اہل نہیں تو نا اہل امام کے تعین کی زمہ دااری ان پر ہوگی۔6۔مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہے۔جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے لکھا ہے۔لیکن دیگر شواہد کی بنا پر متنًا و معنا صحیح ہے۔ غالبًا اسی بنا پر شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اور دکتور بشارعواد ے اسے صحیح قرار دیا ہے۔تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الصحیۃ رقم 1767 وسنن ابن ماجہ بتحقیق دکتور بشارعواد رقم 981)