فهرس الكتاب

الصفحة 982 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: امام کے فرائض

982 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُمِّ غُرَابٍ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَقِيلَةُ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ، أُخْتِ خَرَشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً، لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ»

سیدنا خرشہ ؓ کی ہمشیرہ سیدہ سلامہ بنت حر ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: ''لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ وہ ایک گھڑی کھڑے ہوئے ( ایک دوسرے کو امامت کے لئے دھکیلیں گے) انہیں کوئی امام نہیں ملے گا جو نماز پڑھا سکے۔''

۔یہ ر وایت سندًا ضعیف ہے۔تاہم معنوی طور پر صحیح ہے۔اس لئے کہ قرب قیامت شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک دوسرے سے کہے گا ک تم امامت کرائو میں اس کااہل نہیں ہوں کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بے بہرہ ہوں گے۔اس لے جو صاحب صلاحیت ہو یعنی علم وفضل سے بہرہ دور ہو تو بلا وجہ اس پر عمل نہ کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت