3945 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَابِسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي عَهْدِهِ، فَمَنْ قَتَلَهُ طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَكُبَّهُ فِي النَّارِ، عَلَى وَجْهِهِ»
حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی حفاظت میں ہے، چنانچہ تم اللہ کے (حفظ و امان کے) وعدے کو مت توڑو۔ جو شخص اس (نمازی مسلمان) کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے (ایک مجرم کی طرح اپنے دربار میں) طلب فرمائے گا، پھر اسے جہنم میں منہ کے بل اوندھا کر کے پھینک دے گا۔
1۔اگر سردار یا باسشاہ کسی کو پناہ دے تو اسے تکلیف دینا سردار یا بادشاہ کی توہین یا بغاوت سمجھا جاتا ہے۔نمازی مسلمان اسی طرح اللہ کی پناہ میں ہے لہذا ازسے تکلیف دینا یا اسے قتل کرنا اللہ تعالی کی شان میں گستاخی اور بغاوت کے مترادف ہے جو ناقابل معافی جرم ہے۔
2۔بے نماز کو اللہ کی یہ پناہ حاصل نہیں۔
3۔مسلمان کے قاتل کی سزا جہنم ہے لیکن اگر مقتول کے وارث خون بہا لے کر یا احسان کرتے ہوئے قاتل کو معاف کردیں تو ایسے مسلمان قاتکل کی سزا معاف ہوجائے گی۔
4۔ کبیرہ گناہوں کے مرتکب جہنم میں جائیں گے پھر اپنے گناہوں کے مطابق سزا بھگتنے کے بعد انھیں رہائی مل جائے گی۔