فهرس الكتاب

الصفحة 2488 من 4341

کتاب: رہن( گروی رکھی ہوئی چیز)سے متعلق احکام ومسائل

باب: درخت کا حریم( درخت سے متعلق رقبہ )

2488 حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِلرَّجُلِ فِي النَّخْلِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مِنْ الْأَسْفَلِ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَرِيمٌ لَهَا

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ اگر کھجوروں کے باغ میں ایک، دو یا تین درخت کسی دوسرے شخص کے ہوں، اور ان میں اختلاف ہو جائے (کہ کس کی کتنی زمین ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ دیا کہ ہر درخت کی جڑ سے لے کر جہاں تک اس کی شاخیں پہنچتی ہیں، وہ اس درخت کا رقبہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت