فهرس الكتاب

الصفحة 3741 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: برےنام رکھنا

3741 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ فِينَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرَّجُلُ مِنَّا لَهُ الِاسْمَانِ وَالثَّلَاثَةُ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا دَعَاهُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ فَيُقَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ

حضرت ابو جبیرہ بن ضحاک ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا:یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی: (وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ) ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔ رسول اللہ ﷺ (ہجرت کرکے) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ایک ایک آدمی کے دودوتین تین نام ہوتے تھے۔نبی ﷺ بعض اوقات انہیں ان ناموں سے پکارتے تو عرض کیا جاتا: اے اللہ کےرسول ! وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے ۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: (وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ) ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔

۱ ۔ کسی کو ایسے نام یا لقب سے نہیں پکارنا چاہیے جو اسے نا گوار ہو۔۲۔ مسلمان کو دوسرے مسلمان کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے اور بلا وجہ ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے اس کے جذبات مجروح ہوں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت