فهرس الكتاب

الصفحة 873 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: رکوع میں گٹھنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان

873 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَكَعْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي، فَطَبَّقْتُ، فَضَرَبَ يَدِي وَقَالَ: «قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ»

سیدنا مصعب بن سعد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے والد ( سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ ) کے قریب ( نماز پڑھتے ہوئے) رکوع کیا تو تطبیق کی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے ، پھر ہمیں حکم دیا گیا کہ ( ہاتھ ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں۔

۔1۔,تطبیق, کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کوملا کر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان ہاتھ رکھے جایئں۔رکوع کا یہ طریقہ منسوخ ہوچکا ہے۔2۔جو حکم منسوخ ہوچکا ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔3۔رکوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح رکھے جایئں۔جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔دیکھئے۔ (جامع الترمذی ۔الصلاۃ باب ماجاء انہ یجافی یدیہ عن جنبیہ فی الرکوع حدیث 260)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت