فهرس الكتاب

الصفحة 471 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: پیتل کے برتن میں وضو کرنا

471 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمَاجِشُونِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ

سیدنا عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ ہم نے پیتل کے ایک برتن میں پانی پیش کیا تو آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا۔

1۔اس سے معلوم ہوا کہ پیتل کے برتن بنانا اور کھانے پینے میں ان کا استعمال جائز ہے ۔

2۔پیتل کی انگوٹھی یا کوئی اور زیور پہننے سے پرہیزکرنا چاہیےکیونکہ نبیﷺ نے پیتل کی انگوٹھی پہننے والے سے فرمایا: کیا وجہ ہے ک مجھے تم سے بتوں کی بو آرہی ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (جامع الترمذي اللباس باب ماجاء في خاتم الحديد حديث:1785 وسنن ابي داؤد الخاتم باب ماجاء في خاتم الحديد حديث:4223 وسنن النسائي الزينة باب مقدار ما يجعل في الخاتم من الفضة حديث:5197) شيخ عبدالقادر ارناؤوط نے اس حدیث کو حسن قراردیا ہے (حاشیة جامع الاصول:4/714)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت