فهرس الكتاب

الصفحة 2851 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب:(غنیمت کے حصے کے علا وہ )زاہد انعا م

2851 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ

حضرت حبیب بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نےخمس کے بعد تہائی حصہ بطور انعام دیا۔

1۔ امیر لشکر کو حق حاصل ہے کہ کوئی خاص کارنامہ انجام دینے والے دستے کو غنیمت میں ان کے حصے کے علاوہ خصوصی انعام بھی دے ۔یہ خصوصی انعام خمس میں سے دیا جاتا ہے۔

2۔ خمس کے بعد کا مطلب یہ ہے کہ غنیمت میں سے بیت المال کا پانچواں حصہ الگ کرنے کے بعد باقی مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کیا اس کے بعد خمس میں سے کچھ حصہ مزید انعام کے طور پر دیا ۔بعض علماء کے نزدیک خمس نکال کر باقی چار حصوں میں سے کچھ خاص انعام دیا پھر سب مجاہدین میں تقسیم کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت