فهرس الكتاب

الصفحة 2901 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حج عورتوں کا جہا د ہے

2901 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ قَالَ نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ

حضر ت عائشہ ؓا سے روایت ہے' انھوں نے فرمایا:میں نے کہا:اے اللہ کے رسول!عورتوں پر جہاد فرض ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''ہاں!ا ن پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں جنگ نہیں ہوتی ۔وہ حج اور عمرہ ہے۔''

1۔جہاد قتال عورتوں پر فرض نہیں۔

2۔عورتوں کے لیے حج اور عمرے کی اتنی اہمیت ہے جتنی مردوں کے لیے جہاد کی۔

3۔حج وعمرہ کو عورتوں کا جہاد اس لیے قرار دیا گیا ہےکہ اس میں بھی اللہ کی رضا کے لیے سفر کی مشقت برداشت کی جاتی ہے مال خرچ کیا جاتا ہے اور کئی طرح کی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت