2246 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فر رہے تھے: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اور جو مسلمان اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی عیب دار چیز بیچے اس کے لیے حلال نہیں کہ اس کے لیے (وہ عیب) بیان نہ کرے۔
(1) ہرمسلمان کو دوسرے مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہیے ۔
(2) سودے میں اگر کوئی عیب ہوتو اسے بیان کر دینا چاہیے ہو سکتا ہے جس مقصد کےلیے وہ خریدنا چاہتا ہے اس کے لیے وہ عیب اہمیت نہ رکھتا ہو ۔
(3) نکمی چیز کے لیے اعلی ٰچیز کی قیمت طلب نہیں کرنی چاہیے ۔
(4) عیب بیان کرنا دیانتداری کا جز ہے اور مسلمان کی ایک اہم خوبی دیانت داری ہے۔