فهرس الكتاب

الصفحة 2353 من 4341

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل

باب: صلح کا بیان

2353 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا

حضرت عمرو بن عوف انصاری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فر رہے تھے: مسلمانوں کے درمیان صلح درست ہے سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال کرے۔

1۔ جب دو افراد یا گروہوں میں اختلاف ہو جائے تو اختلاف شدید نہ ہونے دیا جائے بلکہ جلد ازجلد صلح کرانے کی کوشش کی جائے ۔

2۔ صلح کا یہ مطلب ہے کہ جھگڑا ختم کرنے کےلیے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جائے۔ یہ بہت ثواب کا کام ہے ۔

3۔ صلح میں ایسی شرط نہیں رکھی جا سکتی جو شریعت کے واضح حکم کے خلاف ہو ۔ ایسی شرط رکھنا یا اس پر عمل کرنا حرام ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت