فهرس الكتاب

الصفحة 733 من 4341

کتاب: آذان کے مسائل اور اس کا طریقہ

باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت کابیان

733 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْمَسْجِدِ يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جناب ابو شعثاء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم سیدنا ابو ہریرہ ؓ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ (اسی اثناء میں) مؤذن نے اذان کہی۔ ایک آدمی مسجد سے اٹھا اور چل دیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ اس کی طرف دیکھتے رہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا۔ تب سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: اس شخص نے سیدنا ابو القاسم ﷺ کی حکم عدولی کی ہے۔

اذان کے بعد بلاعذر مسجد سے نکلنا منع ہے البتہ کوئی معقول عذر ہوتو پھر گنجائش ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت