612 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ الْعُمَرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلًا وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ
سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور اسے (جسم یا کپڑوں پر) گیلا پن (مادہ منویہ) نظر آئے اور اسے خواب یاد نہ ہو، وہ غسل کرے اور اگر اسے محسوس ہو کہ اس نے خواب ( میں غسل واجب کرنے والا عمل ) دیکھا ہے اور ( بیدار ہونے پر) گیلا پن نظر نہ آئے تو اس پر کوئی غسل نہیں۔''
یہ روایت سندًا ضعیف ہے ''تاہم یہ روایت اور بھی کئی طرق سے مروی ہے''بنا بریں بعض محققین کے نزدیک یہ روایت ان طرق کی وجہ سے قوی ہوجاتی ہے۔دیکھیے: (الموسوعة الحديثيه:43/265/266) ''شیخ البانی ؒ نے بھی اسے حسن کہا ہے۔دیکھیے: (مشكوة للالباني''حديث:441) '' علاوہ ازیں صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس میں بیان کردہ مسئلے کا اثبات ہوتا ہے''وہ روایت یہ ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پوچھا کہ کیا احتلام ہونے کی صورت میں (جس طرح مرد غسل کرتا ہے) عورت پر بھی غسل ہے؟آپ نے فرمایا:ہاں''جب وہ پانی دیکھے۔ (صحیح مسلم ''الحیض ''حدیث:313) اس سے واضح ہے کہ اس معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔خواب (حالت نیند) میں جس کو بھی احتلام ہوجائے''اسے یاد ہو یانہ یاد ہو لیکن اگر اس کے کپڑے گیلے ہوں تو اس پر غسل واجب ہے۔بشرطیکہ اس کے کپڑے اس طرح گیلے نہ ہوجیسے پیشاب کے گیلے ہوتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اس پر غسل واجب نہیں ہوگا۔اور اگر اسے خواب میں احتلام تو یاد ہو لیکن اس کی کوئی علامت (نمی) اس کے کپڑوں پر نہ ہوتو غسل واجب نہیں ہوگا۔