فهرس الكتاب

الصفحة 1675 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: روزے دار کو قے آ جائے(تو کیا حکم ہے؟)

1675 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدُ ابْنَا عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ قَالَ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كُنْتَ تَصُومُهُ قَالَ أَجَلْ وَلَكِنِّي قِئْتُ

فضالہ بن عبید انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ ایک ایسے دن ان کے پاس تشریف لائے جس دن آپ روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ نے ( پانی کا) برتن طلب فرمایا اور پی لیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو وہ دن ہے جس دن آپ روزہ رکھا کرتے تھے۔ فرمایا: ہاں، لیکن مجھے قے آگئی تھی۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت