فهرس الكتاب

الصفحة 933 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جب جماعت کھڑی ہواور کھانا سامنے آجائے

933 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ»

سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کی اقامت ہو جائے تو پہلے کھانا کھالو۔''

1۔جب بھوک لگی ہو اورکھانا تیار ہو تو نمازکے دوران میں توجہ کھانے کیطرف رہے گی۔اور نماز کماحقہ ادا نہیں ہوسکے گی۔ اس لئے بھوک کی صورت میں پہلے کھانا کھا لینا بہتر ہے۔تاکہ دلجمعی سے نماز ادا کی جاسکے۔2۔اگر کھانا تیار ہونے میں دیر ہو تو نماز پڑھ لینی چاہیے۔کیونکہ اس صورت میں نماز میں تاخیر سے کوئی فائدہ نہیں۔3۔دین اسلام دین فطرت ہے۔اس میں جسم اور روح دونوں کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ایک حسین توازن قائم کردیا گیا ہے۔ہندو جوگیوں یا عیسائی راہبوں کی طرح محض جسم کو تکلیف دینے کو نیکی سمجھ لینا گمراہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت