فهرس الكتاب

الصفحة 2264 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: تازہ کھجور کا خشک کھجور سے تبادلہ

2264 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَإِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ اشْتِرَاءِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ قَالَ الْبَيْضَاءُ فَنَهَانِي عَنْهُ وَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ فَقَالَ أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ قَالُوا نَعَمْ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ

قبیلہ بنو زہرہ کے مولیٰ حضرت ابو عیاش زید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے جو کوسُلت کے عوض خریدنے کا مسئلہ پوچھا تو حضرت سعد ؓ نے فرمایا: ان میں بہتر جنس کون سی ہے؟ حضرت زید ؓ نے کہا: (میں نے کہا: ) جو۔ تو سعد ؓ نے مجھے اس تبادلے سے منع فر دیا اور فرمایا: میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ سے خشک کھجور کے عوض تازہ کھجور خریدنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تازہ کھجور خشک ہو کر (وزن میں) کم ہو جاتی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس بیع سے منع فر دیا۔

(1) سلت (بغیر چھلکے کے جو) ایک خاص غلہ ہے جو چھلکا نہ ہونے کے لحاظ سے گندم سے مشابہ ہے ۔ اور طبعی خواص کی بنا پر جو سے مشابہ ہے ۔ بہر حال اسے جو ہی کی جنس سے شمار کیا جاتا ہے ۔

(2) خشک کھجور اور تازہ کھجور کا باہم تبادلہ ممنوع ہے اگرچہ دست بدست ہی ہو ۔

(3) خشک کھجور اور تازہ کھجور بظاہر ایک ہی جنس ہے ' اس لیے اس کی اقسام کا تبادلہ جائز ہونا چاہیے لیکن منع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بظاہر ہم وزن ہونے کےباوجود حقیقت میں ہم وزن نہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت