3461 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَوْلًى لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَمْشِينَ؟» قُلْتُ: بِالشُّبْرُمِ، قَالَ: «حَارٌّ جَارٌّ» ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَى فَقَالَ: «لَوْ كَانَ شَيْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ، كَانَ السَّنَي، وَالسَّنَي شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ»
حضرت اسماء بنت عمیس ؓا سے روایت ہے ،انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''تم کون سی چیز سے جلاب لیتی ہو ؟ '' میں کہا: شبرم سے ۔ آپ نے فرمایا: یہ تو بہت گرم ہے ۔'' پھر میں نے اس مقصد کے لیے سنا مکی استعمال کی تو آپ نے فرمایا: ''اگر کوئی چیز موت سے بچا سکتی تو وہ سنا ہوتی ۔ اور سنا موت سے شفاہے۔''
مذکورہ روایت سندا ضعیف ہے۔جبکہ سنا (مکی) کے فوائد کی بابت گزشتہ حدیث 3455 میں دیکھی جاسکتی ہے۔جو کہ حسن درجے کی ہے۔