فهرس الكتاب

الصفحة 1601 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : مصیبت زدہ کو تسلی دینے کے ثواب کا بیان

1601 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ، مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ، إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

عمرو بن حزم ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ''جو مومن اپنے بھائی کو کسی مصیبت پر تسلی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت افزائی کا خلعت عطا فرمائے گا۔''

1۔یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے۔تاہم تعزیت کرنا صحیح روایات سے ثابت ہے۔علاوہ ازیں دیگر محققین نے مذکورہ روایت کو حسن بھی قرار دیا ہے۔دیکھئے۔ (الصحیحۃ ر قم 195۔الطبعۃ الجدیدۃ۔والارواء رقم 764) 2۔تعزیت کا مطلب ہے مصیبت زدہ سے یا میت کے اقارب سے اظہار افسوس کرنا انھیں تسلی دینا صبر کی تلقین کرنا اور ایسی باتیں کرنا جس سے ان کا غم ہلکا ہو۔مثلا یوں کہے۔:اللہ مر حوم کی مغفرت فرمائے۔ان کے درجے بلند فرمائے۔اور آپ کو صبر پر اجر عظیم دے۔یا یہ کہنا کہ اللہ کی امانت تھی۔جو اس نے لے لی وغیرہ۔2۔تعزیت کرنا مومن سے ہمدردی کا اظہار ہے اور مومن سے ہمدردی ایمان کا جزو ہے۔3۔ (حلۃ) (خلعت) سے مراد عمدہ لباس ہے جو قیامت کے دن اللہ کی طرف سے بعض نیکیوں کے بدلے میں دیا جائے گا۔جس سے سب لوگوں کے سامنے سے اس شخص کی عزت وعظمت اور اس کے بلند مقام کا اظہار ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت