فهرس الكتاب

الصفحة 2377 من 4341

کتاب: ہبہ سے متعلق احکام ومسائل

باب: اولاد کو کچھ دے کر واپس لینا( جائز ہے )

2377 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: آدمی کے لیے جائز نہیں کہ (کسی کو) کوئی چیز دے کر واپس لے لے، سوائے والد کے، جو کچھ وہ اپنی اولاد کو دیتا ہے (،اسے واپس لے سکتا ہے) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت