فهرس الكتاب

الصفحة 2263 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: درہم و دینار توڑنا منع ہے

2263 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ قَالُوا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ بَيْنَهُمْ إِلَّا مِنْ بَأْسٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا رائج سکہ بلا ضرورت توڑنے سے منع فرمایا ہے۔

یہ روایت ضعیف ہے ' تاہم یہ بات صحیح ہے کہ سونے کی اشرفی یا چاندی کا روپیہ جوصحیح ہو ' اور اس سے بازار میں خرید و فروخت ہو سکتی ہو ' اسے پگھلا کر سونے یا چاندی کی ڈلی بنالینا جائز نہیں کیونکہ اس سے عام مسلمانوں کی پوری ہونے والی ایک ضرورت کو پورا ہونے میں خلل واقع ہوتا ہے ' البتہ کوئی معقول وجہ ہو ' مثلًا:وہ سکہ کھوٹا ہو تو اسے توڑ کر پگھلایا جا سکتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت