1772 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرُ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ
عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبول اسلام سے پہلے ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی (جو اسلام لانے تک پوری نہ کر سکے تھے) ، چنانچہ انہوں نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔
1۔اعتکا ف ایک دن یا ایک را ت بھی ہو سکتا ہے 2 اگر کو ئی شخص اسلا م قبول کر نے سے پہلے کسی نیک کا م کا ارادہ کر ے تو اسلام قبول کر نے کے بعد وہ کا م کر لینا چا ہیے البتہ اگر کسی غیر شرعی کام کا ۔ ارادہ کیا ہو تو اسے پو رانہیں کر نا چا ہیے 3 اللہ کے لئے نذر ما ننا عبا دت ہے لہذا ایسی نذر پو ری کر نا ضروری ہے