فهرس الكتاب

الصفحة 796 من 4341

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

باب: نماز عشاء اور نماز فجر با جماعت ادا کرنے کی فضیلت

796 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا»

سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ عشاء کی نماز اور فجر کی نماز میں کیا کچھ ہے۔ تو وہ ضرور ان دونوں نمازوں میں حاضر ہوں، خواہ انہیں گھسٹتے ہوئے آنا پڑے۔''

1۔ کیا کچھ سے مراد ان نمازوں کا بہت زیادہ ثواب اور ان کی برکات ہیں۔

2۔یہ برکات اور رحمتیں صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہیں کہ یہ نمازیں باجماعت ادا کی جائیں۔

(حبوا) کے معنی ہیں: ہاتھوں کے سہارے چلنا یا گھٹنوں یا سرینوں کے بل گھیسٹ گھسٹ کر چلنا۔مطلب یہ ہے کہ اگر لوگوں کو ان نمازوں کی اہمیت کا کما حقہ احساس ہو جائے تو کبھی ان سے غیر حاضر نہ رہیں خواہ مسجد تک آنے میں انھیں کتنی ہی تکلیف اور مشقت برداشت کرنی پڑے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت