2903 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شُبْرُمَةُ قَالَ قَرِيبٌ لِي قَالَ هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ قَالَ لَا قَالَ فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ سے روایت ہے'رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو یوں کہتے سنا:شبرمہ کی طرف سے لبیک ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''شبرمہ کون ہے؟ اس نے کہا میرا قریبی رشتے دار ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''کیا تم نے (پہلے ) کبھی حج کیا ہے؟'' اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا:''یہ حج اپنی طرف سے کر 'پھر (پھر بعد میں) شبرمہ کی طرف سے کرنا۔''
1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔اور اس کی بابت تفصیلی گفتگو کی ہے۔محققین کی اس تفصیلی گفتگو سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ارواء الغليل للالباني رقم:994 وصحيح ابن حبان(موارد الظمان) بتحقيق حسين سليم اسد الدراني حديث:926 وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكور بشار عواد رقم:29-3) اس سے معلوم ہوا کہ حج بدل جائز ہے۔
2۔بوقت ضرورت حج بدل کسی بھی انسان کی طرف سے کیا جاسکتا ہے۔ہاں ! البتہ اگر کوئی شخص حالت شرک میں مرا ہوتو اس کی طرف سے حج بدل نہیں ہوسکتا۔ واللہ اعلم۔
3۔حج بدل کے لیے یہ شرط ہے کہ حج کرنے والا پہلے اپنا حج کرچکا ہو۔
4۔عمرے کا بھی یہی حکم ہے۔
5۔حج بدل میں لبیک کہتے وقت اس شخص کا نام لینا چاہیے جس کی طرف سے حج یا عمرہ کرنا ہے۔