فهرس الكتاب

الصفحة 2904 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: فوت شدہ کی طر ف سے حج کرنا

2904 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحُجُّ عَنْ أَبِي قَالَ نَعَمْ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ فَإِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نےنبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟نبیﷺ نے فرمایا:''ہاں'اپنے والد کی طرف سے حج کر۔اگر تو اس کے لیے بھلائی میں اضافہ نہیں کرے گا تو برائی میں بھی اضافہ نہیں کرے گا۔''

1۔ مزکورہ روایت کو بھی ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قراردیا ہے۔اور دلائل کی رو سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصلوۃ معلوم ہوتی ہے لہذا والدین کی طرف سے حج وعمرہ کرنا درست ہے خواہ وہ زندہ ہو یا صحیح عقیدے پر فوت ہوچکے ہوں۔

2۔والدین کے بہت احسانات ہوتے ہیں اس لیے ایسے اعمال کرنے چاہییں کہ انھیں فائدہ پہنچے یا کم ازکم ایسے اعمال سے ضرور اجتناب کیا جائے جو ان کے ساتھ برائی شمار ہوں۔ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ دوسرے کے ماں باپ کو گالی دیکر اپنے ماں باپ کے لیے گالی کا سبب بننے والا ایسے ہی ہے گویا اس نے کود اپنے ماں باپ کو گالی دی۔ (صحيح البخاري الادب لا يسب الرجل والديه حديث:5973)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت