557 حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ الْقِبْلَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ نَعَمْ قَالَ يَوْمًا قَالَ وَيَوْمَيْنِ قَالَ وَثَلَاثًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا قَالَ لَهُ وَمَا بَدَا لَكَ
سیدنا ابی بن عمارہ ؓ سے روایت ہے اور یہ وہ صحابی ہیں جن کے گھر میں اللہ کے رسول ﷺ نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے ( قبلہ تبدیل ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے اسلام لائے تھے۔) انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: کیا میں موزوں پر مسح کر لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:''ہاں، '' انہوں نے کہا: ایک دن؟ (پھر) کہا: دو دن؟ (پھر) کہا: تین دن؟ حتی کہ سات دن تک جا پہنچے۔ نبی ﷺ نے اس سے کہا:''جب تک تمہارا جی چاہے۔''
یہ روایت تو سندًا ضعیف ہے تاہم اگلے ایک اثر صحابہ میں بہ وقت ضرورت تین دن سے زیادہ مسح کرنے کا جواز ملتا ہے۔