فهرس الكتاب

الصفحة 1112 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: اگر کوئی خطبے دوران میں مسجد پہنچےتو کیا کرے

1112 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ جَابِرًا وَأَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ أَصَلَّيْتَ قَالَ لَا قَالَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَأَمَّا عَمْرٌو فَلَمْ يَذْكُرْ سُلَيْكًا

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا سلیک غطفانی ؓ مسجد میں آئے تو نبی ﷺ خطبہ ارشاد فر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ( ان سے) پوچھا: ''تم نے نماز پڑھی ہے؟'' انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ''تب دو رکعتیں پڑھ لو۔'' حدیث کے راوی عمرو بن دینار نے سلیک (کے داخل ہونے) کا ذکر نہیں کیا۔

1۔اس سے معلوم ہوا کی خطبے دوران میں آنے والے کو بھی دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے تو دوسرے اوقات میں آنے والے کو بدرجہ اولی دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے۔2۔ان دو رکعتوں کو تحیۃ المسجد بھی قرار دیا گیا ہے۔اور جمعے کی سنتیں بھی تاہم مذکورہ بالا صورت میں دو رکعت سے زیادہ پڑھنا درست نہیں۔ ہاں خطبہ شروع ہونے سے پہلے (دودو رکعت کرکے) جتنی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔

(صحیح البخاری الجمعۃ باب الدھن اللجمعۃ حدیث 883)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت