فهرس الكتاب

الصفحة 261 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: علم کی بات پوچھے جانے پر علم چھپانے والے( کے گناہ) کا بیان

261 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطاَءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَحْفَظُ عِلْمًا فَيَكْتُمُهُ، إِلَّا أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ» .

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ أَيِ الْقَطَّانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: '' جس شخص کو علم ( کا کوئی مسئلہ ) یاد ہو، پھر اس نے چھپا لیا، وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اسے آگ کی لگام پڑی ہوگی۔''

( امام ابن ماجہ ؓ کے شاگرد) ابو الحسن القطان نے یہ روایت اپنی عالی سند سے عماہ بن زاذان کے دوسرے شاگرد ابوالولید کی سند سے بھی اسی طرح بیان کی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت