3329 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِأَوَّلِ الثَّمَرَةِ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَفِي ثِمَارِنَا، وَفِي مُدِّنَا، وَفِي صَاعِنَا، بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ، ثُمَّ يُنَاوِلُهُ أَصْغَرَ مَنْ بِحَضْرَتِهِ مِنَ الْوِلْدَانِ»
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا:رسول اللہﷺ کی خدمت میں جب پہلا پھل پیش کیا جاتا تو آ پ فرماتے {اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَفِي ثِمَارِنَا، وَفِي مُدِّنَا، وَفِي صَاعِنَا، بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ} '' اے اللہ ہمارے شہر میں'ہمارے پھلوں میں'ہمارے مد میں اور ہمار ے صاع میں برکت کے ساتھ برکت عطا فرما۔''پھر حاضر خدمت بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل وغیرہ عنایت فر دیتے۔
1۔ باغ کا پہلا پھل کسی بزرگ شخصیت کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے ۔ اس میں اس شخصیت کی بزرگی کا اعتراف بھی ہے اور اس سے محبت کااظہار بھی ۔
2۔ بڑوں کو چھوٹوں کے حق میں ہر مناسب موقع پر دعائے خیر کرنی چاہیے ۔
3۔ بچوں کو کھانے پینے کی چیز دینے سے بچوں کے دل میں بزرگوں کی محبت پیدا ہوتی ہے ۔