فهرس الكتاب

الصفحة 2874 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: عو رتوں سے بیعت لینا

2874 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ تَقُولُ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ فَقَالَ لَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ

حضرت امیمہ بنت رقیقہ ؓ سے روایت ہےانھوں نے کہا:میں کچھ خواتین کے ساتھ بیعت کرنے کےلیے نبیﷺ خدمت میں حاضر ہوئی توآپ ﷺنےہمیں فرمایا:جن کاموں کی تمھیں استطاعت اورطاقت ہو (ان میں میرے حکم کی تعمیل ضروری ہے۔) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔

1۔ حضرت امیمہ رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت خدیجہ کی بھانجی تھیں۔ان کی والدہ رقیقہ بنت خویلد ام المومنین خدیجہ بنت خویلد کی ہمشیرہ تھیں۔حضرت امیمہ کے والد کا نام عبداللہ بن بجاد تیمی تھا۔ (دیکھیے:تقريب التهذيب:8634)

2۔بیعت عورتوں سے بھی لی جاسکتی ہے۔

3۔مرد کے لیے غیر محرم عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں۔

4۔عورتوں سے سے بیعت میں پردے کے شرعی احکام کی پابندی لازمی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت