فهرس الكتاب

الصفحة 2280 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: بیع سلف مقررہ ماپ اور مقررہ وزن کے ساتھ مقررہ مدت کے لئے ہونی چاہیے

2280 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ (مدینہ منورہ) تشریف لائے تو لوگ دو دو تین تین سال پہلے رقم دے کر کھجوریں خرید لیتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کھجوروں کی بیع سلف کرے تو اسے چاہیے کہ معلوم ماپ کرے اور معلوم تول کے ساتھ معلوم مدت کے لیے بیع سلف کرے۔

(1) چیز کی قیمت پیشگی وصول کر لینا اور چیز بعد میں مقررہ وقت پر ادا کرنا بیع سلم اور بیع سلف کہلاتا ہے ۔

(2) اس بیع کے جواز کے لیے ضروری ہے کہ بیچی اور خریدی جانے والی چیز کی مقدار ،نوعیت ' مطلوبہ چیز کی ادائیگی اور وصولی کا وقت اور دوسرے ایسے معاملات کا پہلے سے تعین کر لیا جائے جن میں اختلاف ہونے کا خطرہ ہے۔

(3) بیع سلف میں یہ ضروری نہیں کہ بیچنے والے کے پاس وہ چیز اس وقت موجود ہو بلکہ جب غالب امکان ہو کہ وعدے کے وقت تک بیچنے والا وہ چیز حاصل کر لے گا اور مقررہ وقت پر خریدار کے حوالے کر سکے گا تو یہ کافی ہے۔

4۔بیع سلف میں قیمت کا تعین بھی پہلے ہی ہوتا ہے جب رقم ادا کی جاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت