فهرس الكتاب

الصفحة 2311 من 4341

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل

باب: نا انصافی اور رشوت بڑا گناہ ہے

2311 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ أَلْقِهِ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی قاضی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے ، قیامت کے دن وہ اس حال میں حاضر ہو گا کہ ایک فرشتے نے اسے گدی سے پکڑ رکھا ہو گا، پھر آسمان کی طرف سر اٹھائے گا، اگر اللہ نے فرمایا: اسے پھینک دے تو فرشتہ اسے (جہنم) کے گڑھے میں پھینک دے گا (جس میں وہ) چالیس سال تک (گرتا چلا جائے گا۔ )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت