فهرس الكتاب

الصفحة 875 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا پڑھے؟

875 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے تو (اس کے بعد(رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ) کہتے تھے۔

1۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع سے اٹھتے تو (سمع اللہ لمن حمدہ) کہتے۔پھر جب سیدھے کھڑے ہوجاتے تو (ربنا لك الحمد) یا (ربنا ولك الحمد) کہتے۔ (صحیح البخاری الاذان۔باب التکبیر اذا کام من السجود حدیث 788۔2۔تمہید کا جملہ مختلف انداز سے مروی ہے۔جس طریقے سے بھی پڑھا جائے درست ہے۔یعنی(ربنا لك الحمد) یا (ربنا ولك الحمد) یا (اللهم ربنا لك الحمد ) (اللهم ربنا ولك الحمد) دیکھئے۔ (صحیح مسلم الصلاۃ باب ما یقول اذا رفع راسہ من الرکوع حدیث 476۔477)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت