فهرس الكتاب

الصفحة 1368 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: تہجد اگر رہ جائے تو کون سے عمل سے اس کی تلافی کی امید کی جا سکتی ہے

1368 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ فَحَدَّثَنِي بِهِ

عبدالرحمن بن یزید ؓ نے علقمہ ؓ سے اور انہوں نے ابو مسعود ؓ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورہٴ بقرہ کی آخری دو آیتیں (یہ شان رکھتی ہیں کہ ) جو شخص انہیں ایک رات میں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔'' راوئ حدیث حفص اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن یزید ؓ نے فرمایا: (بعد میں) میری ملاقات ابو مسعود ؓ سے ہوئی جب کہ وہ ( کعبہ شریف ) کا طواف کر رہے تھے تو انہوں نے ( خود) یہ حدیث مجھے سنائی۔

کافی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس کو تہجد کا وقت نہ ملا۔وہ کم از کم یہ دو آیتیں ہی تلاوت کرلے۔تو اسے اللہ کی وہ رحمت حاصل ہوجائےگی۔جوتہجد پڑھنے والے کوحاصل ہوتی ہے۔یا یہ مطلب ہے کہ پریشانیوں اور آفات سے بچائو کےلئے کافی ہوں گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت