فهرس الكتاب

الصفحة 1090 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: غسل نہ کرنے کی اجازت

1090 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے اچھی طرح سنوار کر وضو کیا، پھر جمعہ پڑھنے آیا تو ( امام سے) قریب ہو کر ( بیٹھا) اور خاموشی سے توجہ کے ساتھ ( خطبہ) سنا اس کے دونوں جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی، اور جو کنکریوں کو ہاتھ لگائے، اس نے فضول حرکت کی۔''

1۔آداب کا پوری طرح لہاظ رکھتے ہوئے نماز جمعہ کی ادایئگی سے دس دن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔2۔اس قسم کی احادیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ایک نیکی کرلینے کے بعد اب مزید کسی نیکی کی ضرورت نہیں نہ گناہوں سے اجتناب کی ضرورت ہے۔کیونکہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کا نیک عمل کس حد تک قابل قبول ہے۔لہذازیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت