2265 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ تَمْرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ
)حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا۔
مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا پھل اس انداز سے فروخت کرے کہ کھجور کے درختوں کا پھل خشک کھجوروں کے عوض ماپ کر بیچے۔ اور انگور کی بیلوں کا پھل کشمش کے عوض ماپ کر بیچے، اور کھیت (کی فصل) غلے کے عوض ماپ کر فروخت کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا۔
(1) بیع مزابنہ ممنوع ہے ۔
(2) بیع مزابنہ کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے باغ کا پھل خریدے اور اس کے عوض مقررہ مقدار میں کھجوریں ادا کرے ۔ یا مثلًا یوں کہے: اس کھیت میں جوفصل تیار ہورہی ہے وہ سب میں پچاس من گندم کے عوض خریدتا ہوں ۔ یہ درست نہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کھیت سے جو گندم حاصل ہو گی وہ پچاس من سے کم ہو گی یا زیادہ ۔ کھیت کی فصل کےبارے میں اس قسم کا معاہدہ محاقلہ کہلاتا ہے جبکہ باغ کے پھل کےبارے میں یہی معاملہ مزابنہ کہلاتا ہے ۔
(3) امام مالک نے مزابنہ میں اس صورت کو بھی شامل کیا ہے کہ کسی بغیر ماپی تولی چیز کےبارے میں کہا جائے کہ اس کی مقدار یہ ہے ' مثلًا گندم کا یہ ڈھیر دس من کا ہے ۔ یا اس برتن میں میرے اندازے کے مطابق پچاس لٹر تیل ہے ۔ یا میں کہتا ہوں کہ مالٹوں کی اس ڈھیری میں دو سو مالٹے ہیں ' اگر مقدار کم ہوئی تو اپنے پاس سے پوری کروں گا ' اور اگر زیادہ ہوئی تو جتنی زیادہ ہوئی وہ میری ہو گی۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ یہ صورت بیع نہیں بلکہ دھوکے اور قمار (جوئے ) پر مبنی ایک معاملہ ہے ۔ (مؤطا امام مالک ،البیوع ،باب ماجاء في المزابنة والمحاقلة:2/161)