401 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ح و حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي الطُّهُورِ إِذَا تَطَهَّرَ وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ
سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ کو وضو میں یہ بات پسند تھی کہ جب وضو کریں تو دائیں طرف سے شروع کریں اور جب کنگھی کریں تو دائیں طرف سے کنگھی کرنا شروع کریں، اور جب جوتا پہنیں تو پہلے دایاں جوتا پہنیں
1۔ ( طهور) سے مراد ہروہ عمل ہےجس کا تعلق صفائی اور پاکیزگی سے ہو۔یہاں اس سے مراد وضو اور غسل ہے۔
2۔ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: (وفي شانه كله ) اور اپنے ہر کام میں یعنی دوسرے کا وں میں بھی دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ (صحيح البخاري الوضوء باب التيمن في الوضوء والغسل حديث:168 وصحيح مسلم الطهاره باب التيمن في الطهور وغيره حديث:268)
لیکن اس سے بعض چیزیں مستثنی ہیں مثلًا استنجاء کرنا مسجد سے باہر نکلنا جوتا اتارنا ناک صاف کرنا اور اس قسم کے دوسرے کام جن میں طبعی کراہت پائی جاتی ہے۔
3۔جو کام سرف ایک ہاتھ سے کیے جاتے ہیں۔ان میں ( تيمن ) سے مراد دائیں ہاتھ سے کام کرنا ہوگا،مثلًا: مصافحہ کرنا کوئی چیز لینا یا دینا لکھنا وغیرہ۔بعض علماء نے اس حدیث کی روشنی میں کہا ہے کہ گھڑی بھی دائیں ہاتھ میں پہننا بہتر ہے