2427 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ قَالَ وَكِيعٌ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ
حضرت عمرو بن شرید ؓ اپنے والد (حضرت شرید ثقفی ؓ) سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ادائیگی کی طاقت رکھنے والا ٹال مٹول کرے تو اس کی بے عزتی کرنا اور اسے سزا دینا جائز ہو جاتا ہے۔
(امام ابن ماجہ ؓ کے استاد) علی بن محمد طنافسی ؓ نے فرمایا: بے عزتی کرنے سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مراد قید کرنا ہے۔
1۔قرض بروقت اداکرنا ضروری ہے۔
2۔ اگر مقروض وقت پر قرض ادانہ کرے تو اس کے خلاف حکمران یاقاضی سےشکایت کی جاسکتی ہے ۔ حاکم اورقاضی کافرض ہے کہ حق وارکواس کا حق دلوائیں۔
3۔ اگر مقروض واقعی قرض اداکرنے کی طاقت نہ رکھتا ہوتواسے مزید مہلت دی جائے یاقرض معاف کردیا جائے یابیت المال سےاس کی مدد جائے۔ بیت المال کانظام موجود نہ ہونے کی صورت میں دوسرے لوگوں کافرض ہےکہ زکاۃ وصدقات کےذریعے سےاس کی مدد کریں ۔
4۔ جن جرائم میں حد نہیں ان میں مجرم کوتعزیر طے
ور پرقید کی سزا جاسکتی ہے ۔