3067 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَعَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَكُونَ أَسْمَحَ، لِخُرُوجِهِ»
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا: میدان ابطح میں ٹھرنا کوئ سنت (اور شرعی حکم) نہیں-رسول اللہ ﷺ وہاں صرف اس لے ٹھرے تھے کہ (وہاں سے) روانگی میں آپﷺ کے آسانی تھی۔
1۔ابطح يا بطحاء کے لفظی معنی ہموار اور وسیع قطعہ زمین کے ہیں۔یہاں اس سے مراد مکہ اور منی کے درمیان کا میدان ہے۔اس کو محصب کہتے ہیں۔ (فتح الباري:3/754)
2۔ رسول اللہ ﷺ نے یہاں ٹھہر کر ظہر عصر مغربعشاء اور فجر پانچ نمازیں ادا کیں۔اسی رات کو مکہ جاکر طواف وداع کیا اور واپس آگئے۔
3۔حضرت عائشہ اپنے بھائی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرے کے لیے تشریف لے گئی تھیں۔جب وہ واپس آئیں تو رسول اللہ ﷺ یہیں سے مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔ (صحيح البخاريالعمرةباب الاعتمار بعد الحج بغير هديحديث:1786)