2440 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظَّهْرُ يُرْكَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سواری کا جانورو جب رہن رکھا جائے تو اس پر سواری کی جائے گی، اور دودھ دینے والا جانور (گائے، بھینس، بکری وغیرہ) جب رہن رکھا جائے تو اس کا دودھ پیا جائے گا۔ اور جانور کا خرچ اس شخص کے ذمے ہو گا جو سواری کرتا اور دودھ پیتا ہے۔
1۔ رہن رکھے ہوئے جانور کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اوراسے چار ہ کھلانا پڑٹاہے اورنہ وہ مرسکتاہے یا سخت بیماریاکمزور ہوسکتاہے اس طرح جانور پرظلم بھی ہوگا اورراہن یامرتہن کوکوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا اس لیے جانور کی دیکھ بھال کرنے والے کواس کی محنت کے عوض اس سے فائدہ اٹھانے کاحق دیاگیاہے۔
2۔ اگرگاڑی (کار وغیرہ) رہن رکھی جائے تو اس پرسفر کیاجاسکتاہے تاہم اس کے پٹرول کاخرچ اورمرمت وغیرہ کےاخراجات قرض خواہ (قرض وہندہ) کےذمے ہوں گے جواس سے فائدہ اٹھارہاہے۔