فهرس الكتاب

الصفحة 2178 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: باہر سے سامان لانے والے تاجروں کو( شہر میں پہنچنے سے پہلے )جا کر ملنے کی ممانعت کا بیان

2178 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَلَقَّوْا الْأَجْلَابَ، فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا فَاشْتَرَى، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا أَتَى السُّوقَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: سامان لانے والے تاجروں کو (آگے جا کر) نہ ملو۔ جو شخص کسی (تاجر) سے جا کر ملا اور اس سے (سامان) خرید لیا تو مالک (بیچنے والا) جب بازار میں پہنچے گا تو اسے اختیار ہو گا (کہ سودا قائم رکھے یا منسوخ کر دے۔ )

1۔ باہر سے آنے والے کو منڈی کی صورت حال کا علم نہیں ہوتا۔ بستی والوں میں سے کوئی باہر جا کر ملتا ہے اور سامان کے مالک سے اس کا سامان سستے داموں خرید لیتا ہے، یہ منع ہے۔ 2۔ اس کے منع ہونے میں یہ حکمت ہے کہ مالک اور عوام کو نقصان نہ ہو کیونکہ جب مالک شہر میں پہنچتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ مال زیادہ قیمت پ رفروخت ہو سکتا تھا، اس تقصان پر اسے افسوس ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ باہر والے کو واپس جانا ہوتا ہے، اس لیے وہ بعض اوقات چیز سستی بیچ دیتا ہے۔ اس سے شہر کے عوام کو فائدہ ہوتا ہے۔ جب شہر والے نے خرید لیا تو وہ ذخیرہ اندوزی کر سکتا ہے اور مہنگا کر کے آہستہ آہستہ بیچ سکتا ہے۔ اس میں عوام کو نقصان ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت